رات کے سائے

Immo Kahani
0


" رات کے سائے"


رات کے نو بج رہے تھے، شہر کی روشنیاں مدھم پڑ چکی تھیں۔ ایک پرانی حویلی، جو شہر سے دور ایک ویران پہاڑی پر واقع تھی، مکمل خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ لوگ اس حویلی کو ’بھوتوں کی حویلی‘ کہتے تھے اور کوئی بھی اس کے قریب جانے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ لیکن آج رات، ایک نوجوان لڑکی، زارا، اپنے دو دوستوں، علی اور سارہ، کے ساتھ اس حویلی کی طرف جا رہی تھی۔ وہ تینوں ایک ایڈونچر کے شوقین تھے اور اس بھوتوں والی حویلی کا راز جاننا چاہتے تھے۔


بھوتوں کی حویلی


جیسے جیسے وہ حویلی کے قریب پہنچ رہے تھے، سرد ہوا کے جھونکے ان کے چہروں سے ٹکرا رہے تھے۔ درختوں کی شاخیں ایسی لرز رہی تھیں جیسے کوئی بھوت ان کو ہلا رہا ہو۔ زارا کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی، لیکن اس کا حوصلہ بلند تھا۔ وہ اس ایڈونچر کے لیے مکمل طور پر تیار تھی۔ علی اور سارہ بھی کچھ خوفزدہ تھے، لیکن ان کی دوستی نے ان کو ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا حوصلہ دیا تھا۔

وہ حویلی کے پرانے، زنگ آلود دروازے تک پہنچے۔ دروازے پر ایک بڑا تالا لگا ہوا تھا، جو صدیوں سے نہ کھولا گیا ہو۔ علی نے اپنے ساتھ لایا ہوا ہتھوڑا نکالا اور اس تالے کو توڑنے کی کوشش کی۔ ایک تیز آواز کے ساتھ تالا ٹوٹ گیا اور دروازہ کھل گیا۔ اندر داخل ہوتے ہی ایک عجیب سی بدبو ان کے نتھنوں سے ٹکرائی۔ یہ ایک پرانی، سڑی ہوئی خوشبو تھی جو ایک خوفناک ماحول پیدا کر رہی تھی۔

وہ تینوں اندر داخل ہوئے۔ اندر مکمل اندھیرا تھا اور ان کے قدموں کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔ زارا نے اپنی ٹارچ آن کی اور ارد گرد دیکھنے لگی۔ کمرے میں لکڑی کے پرانے فرنیچر بکھرے پڑے تھے، جن پر گرد کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ دیواروں پر خوفناک پینٹنگز لٹکی ہوئی تھیں جو دیکھنے میں بہت پرانی لگ رہی تھیں۔

وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتے گئے، ہر کمرے میں ایک نئی کہانی چھپی ہوئی تھی۔ ایک کمرے میں ایک پرانی کتابوں کی لائبریری تھی، جہاں کتابیں بکھری پڑی تھیں۔ ایک اور کمرے میں ایک لڑکی کی تصویر لٹکی ہوئی تھی، جس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ زارا کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ تصویر اس کو دیکھ رہی ہو۔

وہ اوپر کی منزل کی طرف جانے لگے، جہاں سے ایک دھیمی آواز آ رہی تھی۔ وہ آواز کسی کے رونے کی لگ رہی تھی۔ علی، سارہ اور زارا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور آہستہ آہستہ اوپر کی طرف بڑھنے لگے۔ اوپر ایک بڑا کمرہ تھا، جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ آواز اسی کمرے سے آ رہی تھی۔

جب وہ کمرے میں داخل ہوئے، تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ لیکن ایک پرانی ڈائری میز پر پڑی تھی۔


ڈائری


 زارا نے وہ ڈائری اٹھائی اور پڑھنا شروع کیا۔ ڈائری ایک لڑکی کی تھی، جس کا نام نور تھا۔ نور اس حویلی کے مالک کی بیٹی تھی۔ اس کی ڈائری میں اس کی زندگی کی خوفناک کہانی درج تھی۔ نور ایک بہت خوبصورت لڑکی تھی، لیکن اس کے والد بہت لالچی تھے اور وہ اسے ایک امیر شخص سے شادی کرنے پر مجبور کر رہے تھے۔ نور اس شخص کو پسند نہیں کرتی تھی، اور اس کا دل اس کے ایک کزن، عمر، پر تھا، جو ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔

نور اور عمر ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے اور وہ چپ کر ملنے جاتے تھے۔ جب نور کے والد کو ان کی محبت کا علم ہوا، تو انہوں نے نور کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔ وہ اسے اس کی محبت سے دور رکھنا چاہتے تھے، تاکہ وہ امیر شخص سے شادی کرنے پر راضی ہو جائے۔ نور کی ڈائری میں اس کی اذیت کی کہانی لکھی ہوئی تھی۔ اس نے لکھا تھا کہ وہ اس اذیت کو برداشت نہیں کر سکتی اور وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے جا رہی ہے۔

جیسے ہی زارا نے ڈائری ختم کی، اچانک کمرے میں ایک تیز روشنی پھیلی اور نور کا بھوت ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔


نور کابھوت


 نور کا چہرہ بہت اداس تھا اور اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے ان تینوں کی طرف دیکھا اور ایک دھیمی آواز میں بولی: ’میں یہاں قید ہوں، میرا دل سکون نہیں پا رہا۔ میرے والد نے مجھے میری محبت سے دور کر دیا اور میری زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ میں یہاں سکون نہیں پا سکتی جب تک مجھے میری محبت نہ مل جائے۔‘

زارا نے نور کے بھوت کو دیکھا اور اس کا دل بھر آیا۔ اس نے نور سے پوچھا: ’تمہاری محبت کہاں ہے؟ ہم تمہاری مدد کر سکتے ہیں تاکہ تمہاری روح کو سکون ملے۔‘ نور نے اپنے سر سے اشارہ کیا اور بولی: ’وہ یہاں ہے، اسی حویلی میں۔ وہ میرا انتظار کر رہا ہے۔

وہ تینوں اس کمرے میں نور کے بھوت کے ساتھ رہنے لگے۔ رات کی خاموشی میں، وہ سب ایک ساتھ بیٹھے تھے۔ نور کا بھوت ان کو اپنی کہانی سناتا رہا، وہ کیسے اپنی محبت کو کھو دیا اور اس نے اپنی زندگی کیسے ختم کی۔

عشق کی جیت

صبح کی پہلی کرنیں حویلی کے اندر داخل ہوئیں، تو نور کا بھوت آہستہ آہستہ غائب ہو گیا۔ لیکن اس کی آواز اب بھی ہوا میں گونج رہی تھی۔ ’میری محبت کو ڈھونڈو، وہ اسی حویلی میں ہے، میرا انتظار کر رہا ہے۔‘ زارا، علی اور سارہ نے حویلی کی تلاشی شروع کی۔ وہ ہر کمرے اور ہر کونے میں دیکھنے لگے۔ اچانک، علی کو ایک کمرے میں ایک پرانا صندوق ملا۔ صندوق پر ایک بڑا تالا لگا ہوا تھا، لیکن وہ اس کو کھولنے میں کامیاب ہو گئے۔

جب انہوں نے صندوق کھولا، تو اندر ایک پرانا خط ملا۔ یہ خط نور کے کزن، عمر، نے لکھا تھا۔ خط میں اس نے نور کو بتایا تھا کہ وہ اسی حویلی میں چھپ کر رہا ہے۔ وہ نور کو اس کے والد سے بچانا چاہتا تھا اور اس کے ساتھ بھاگ کر شادی کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ ایسا کر سکتے، نور کو اس کے والد نے قید کر دیا۔ عمر اس حویلی میں نور کا انتظار کرتا رہا، لیکن وہ کبھی نہیں آئی۔ اس کے دل میں ایک امید تھی کہ نور اس کے پاس واپس آئے گی۔

جیسے ہی زارا نے خط پڑھا، اچانک نور کا بھوت دوبارہ ظاہر ہوا۔ اس کا چہرہ مسکراہٹ سے جگمگا رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ عمر کا بھوت بھی اس کے سامنے کھڑا ہے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف بڑھے اور ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ نور کی روح کو سکون مل گیا اور اس کی اذیت ختم ہو گئی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ کے لیے مل گئے۔

اس دن کے بعد سے، اس حویلی میں کوئی بھوت نہیں دیکھا گیا۔ وہ بھوتوں کی حویلی نہیں تھی، وہ تو محبت کی حویلی تھی، جہاں دو روحیں ہمیشہ ایک دوسرے کا انتظار کرتی رہیں۔ زارا، علی اور سارہ نے اس حویلی میں سے بہت سی خوفناک کہانیاں سنیں، لیکن انہوں نے محبت اور قربانی کی کہانی سنی، جو ان کو زندگی بھر یاد رہے گی۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !